قومی

خواتین کے عالمی دن پر ”عورت مارچ” کے حوالے سے حکومتی رد عمل بھی آگیا

عورت مارچ ہوا تو ہر کسی کی اپنی مرضی ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب صمصام بخاری

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کراچی میں ”عورت مارچ” ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں شریک خواتین نے نامناسب اور فضول پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے جسے سوشل میڈیا صارفین نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تاہم اب اس معاملے پرحکومتی مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات صمصام بخاری کا کہنا ہے کہ عورت مارچ ہوا تو ہر کسی کی اپنی مرضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی پلے کارڈز ہمارے معاشرے سے مناسبت نہیں رکھتے تھے لیکن سب کو شخصی آزادی ہے۔ یاد رہے کہ ایک طرف جہاں دنیا کی باصلاحیت خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کر کے اپنا لوہا منوایا اور ”عورت ذات” کا نام روشن کیا وہیں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کچھ خواتین نے لبرلزم کے نام پر ”عورت مارچ” کا انعقاد کیا جس میں کچھ خواتین نے ایسے پوسٹرز اُٹھائے جسے دیکھ کر عام خواتین میں غم و غصے کی ایک لہردوڑ گئی۔ عورت مارچ کے نام کی اس ریلی میں کئی خواتین نے شرکت کی اور لبرلزم کے نام پر باعزت اور باوقار خواتین کا سر بھی شرم سے جھُکا دیا، اس ریلی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو سوشل میڈیا صارفین نے بھی لبرلزم کے نام پر پھیلائی جانے والی اس بے حیائی کو یکسر مسترد کر دیا۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ میں خواتین کی خودمختاری اور ان کی امپاورمنٹ کے خلاف نہیں ہوں لیکن یہ عورت مارچ اور اس میں اُٹھائے جانے واکے کارڈز انتہائی افسوسناک ہیں ۔

سلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے اور مذہب اسلام سے تعلق ہونے کے باوجود خواتین کے ایسے اقدامات افسوسناک ہیں ۔ کچھ خواتین کا کہنا تھا کہ ہمیں تو شکر ادا کرنا چاہئیے کہ ہمارا تعلق ایک ایسے مذہب سے ہے جس میں خدا عورت کو عزت دے کر پیدا کرتا ہے، عزت عورت کی طرف سے اللہ کا تحفہ ہے جبکہ مرد کو اپنی عزت کمانی پڑتی ہے۔ تاہم اب صوبائی وزیر اطلاعات صمصام بخاری نے بھی اس عورت مارچ میں اُٹھائے جانے والے پلے کارڈز کو غیر مناسب قرار دے دیا ہے۔

 

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close