سطح سمندر سے 4 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ’قراقرم ہائی وے‘ پر بنائی گئی دستاویزی فلم سال نو کے موقع پر پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر نشر ہوگی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دستاویزی فلم کا پوسٹر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اسے سرکاری ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔

دستاویزی فلم کو پی ٹی وی نیوز پر یکم جنوری 2022 کو نشر کیا جائے گا اور سرکاری ٹی وی نے اس کا ٹریلر بھی جاری کردیا۔

قراقرم ہائی وے: ویئر مین اینڈ ماؤنٹین میٹ (جہاں پہاڑ اور انسان ملاقات کرتے ہیں) کے عنوان سے بنائی گئی اس دستاویزی فلم کا ٹریلر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیا گیا۔

اس دستاویزی فلم کی ہدایات زوہیب پرویز نے دی ہیں اور اسے دلیریم پروڈکشن نے پاک فوج کے تعمیراتی ادارے ’فرنٹیئر ورکس آرگنائیزیشن‘ (ڈبلیو ایف او) کے تعاون سے بنایا گیا ہے۔

دستاویزی فلم کے ٹریلر میں ’قراقرم ہائی وے‘ کے اطراف کے مناظر دکھائے گئے ہیں جو سطح سمندر سے 4 ہزار فٹ کی بلندی پر پہاڑوں کے درمیان بنایا گیا ہے۔

اس ٹریلر میں میزبان مستنصر حسین تارڑ اور قراقرم کی تعمیر کردار ادا کرنے والے عہدیداروں کو یادداشتیں بیان کرتے دکھایا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے اس ادستاویزی فلم کا ٹریلر 12 دسمبر کو جاری کیا تھا اور اسے 18 دسمبر کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اب اسے یکم جنوری 2022 کو ریلیز کیا جائے گا۔

شاہراہ قراقرم، قومی شاہراہ اور شاہراہ ریشم کہلائے جانے والے اس ہائی وے کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جاتا ہے اور کا شمار دنیا کی خطرناک ترین سڑکوں میں بھی ہوتا ہے۔

یہ 1300 کلو میٹر طویل ہے، اس کی تعمیر کا آغاز  1966 میں کیا گیا تھا لیکن اس کی  تکمیل 20 برس 1986 میں ہوئی تھی۔ ؎

قراقرم ہائی وے کی تیاری میں 813 پاکستانی افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

یہ شاہراہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات یعنی گلگت بلتستان کو چین کے صوبے سنکیانگ سے زمینی طور پر ملاتی ہے،

شاہراہ ریشم چینی شہر کاشغر سے شروع ہوتی ہے اور پھر ہنزہ، نگر، گلگت، چلاس، داسو، بشام، مانسہرہ، ایبٹ آباد, ہری پورہزارہ سے ہوتی ہوئی حسن ابدال کے مقام پر جی ٹی روڈ سے ملتی ہے۔

 




ads

Source link

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button