قومی

کس قیمت کے موبائل فون پر کتنا ٹیکس لاگو ہوگا؟

Details of taxes imposed on mobile phones

گذشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ پیش کیا۔اسد عمر نے پانچ ماہ کے دوران دوسری مرتبہ منی بجٹ پیش کیا اسد عمر کا کہنا ہے کہ یہ فنانس بل کی بجائے اقتصادی اصلاحاتی بل زیادہ ہے۔زیادہ تر ٹیکس مہنگہی اشیاء (ایلیٹ کلاس کی استمال کی جانے والی) پر عائد کیا گیا۔ کم قیمتی اشیاء پر ٹیکس کا مارجن کم رکھا گیا۔ اسد عمر نے منی بجٹ پیش کرتے ہوئے ایکسپورٹ،درآمد شدہ خام مال، ،ایس ایم ای سیکٹر ،شعبہ ذراعت،چھوٹے شادی ہالز اور کھلیوں کی فرنچائزز پر ٹیکس کی کمی کا اعلان کیا۔جب کہ حکومت نے موبائل فون کارڈز پر ٹیکس دوبارہ سے نافذ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے مذکورہ ٹیکس کے خاتمے کے باعث حکومت کو 1 کھرب روپے تک کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا،ٹیکس دوبارہ سے نافذ کرنے کا معاملہ جون میں دوبارہ زیر غور لایا جائے گا۔ ۔اسد عمر نے کہا کہ نان فائلرز زیادہ ٹیکس دے کر 1300 سی سی گاڑیاں خرید سکیں گے،1800 سی سی سے زائد گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹی پر اضافہ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے درآمد شدہ ،موبائلز فونز پر ٹیکس کا اعلان کیا تاہم یہ ٹیکس صرف مہنگے موبائل فونر پر لگایا گیا ہے۔صارفین میڈیا پر چلنے والی خبروں اور ڈالر کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے درآمد شدہ فون پر ٹیکس کے بارے میں الجھن کا شکار تھے۔ ایف بی آر کے مطابق درآمد شدہ موبائل پر مشترکہ ٹیکس لاگو ہو گا۔ 10ہزار روپے سے قیمتی موبائل فون پر 400 روپے ٹیکس لاگو ہوگا۔28 ہزار قیمت کے موبائل فون پر 4 ہزار ٹیکس لاگو ہو گا جب کہ 60،000 تک کے فون پر ٹیکس کی رقم 6،000 روپے ہوگی.ایف بی آر کے مطابق مخلتف قیمت کے درآمدہ شدہ موبائل فونز پر ٹیکس بھی مخلتف ہو گا جو کہ مندرجہ ذیل ہے۔

Close ×
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close