Urdu News

پاکستان پر بڑھتے ہوئے قرضوں کا بوجھ

ہر پاکستانی ایک لاکھ 27 ہزار روپے کا مقروض ہوگیا

پاکستان پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ نے ہر پاکستانی کو ایک لاکھ 27 ہزار روپے کا مقروض کر ڈالا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے نومبر2018 میں613 ارب روپے قرض لیا ہے۔ نومبر2018 کے اختتام پرحکومتی قرضوں کا حجم 26 ہزار452 ارب روپے ہوگیا ہے۔ مقامی سطح پرحکومت نے 162ارب روپے قرض لیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ حکومت نے نومبر میں بیرونی ذرائع سے 450 ارب روپے قرض لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومتی قرضوں میں17322 مقامی اور 9129 ارب بیرونی ذرائع سے حاصل ہوئے۔ دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مجاز ڈیلروں کو خام مال، معاونتی اشیا اور پرزے درآمد کرنے کی غرض سے درآمد و برآمد کنندگان کی طرف سی 10000 ڈالر فی انوائس پیشگی ادائیگی کے لین دین کی اجازت دے دی ہے۔ قبل ازیں جولائی 2018ء میں اسٹیٹ بینک نے پیشگی ادائیگی کی سہولت پر پابندی عائد کردی تھی، جو درآمد کنندگان کو پہلے مجاز ڈیلروں کے ذریعے دستیاب تھی۔ تاہم ایوان صنعت و تجارت، تجارتی ایسوسی ایشنز اور وزارتِ تجارت کی مداخلت پر پابندی کو اس حد تک نرم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ برآمد کنندگان جنہیں اپنی برآمدات کے لیے خام مال اور معاونتی اشیا درکار ہوتی ہیں، انہیں یہ سہولت مل سکے۔ اس اقدام سے برآمدی ماحول میں بہتری کی توقع ہے۔ دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے جولائی سے دسمبر تک انتہائی کم ٹیکس اکٹھا کیا۔ حکومت نے 175ارب روپے کم ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ ڈالر بڑھنے سے گردشی قرضوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب جولائی تا نومبر 2018 تک بیرونی قرضے 1334 ارب روپے بڑھ گئے تھے، جبکہ اس دوران حکومت کے اندرونی قرضوں میں 861 ارب کا اضافہ ہوا ۔ نومبر 2018 کو ہمارا غیرملکی قرضہ 9129 ارب روپے تھا جبکہ ملکی قرضہ 17322 ارب روپے تھا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق تبدیلی سرکار نے ابتدائی 4 ماہ میں 1762 ارب روپے کے قرضے لئے ۔ان اعداد و شمار کے مطابق ہر پاکستانی ایک لاکھ 27 ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close