Urdu News

وزیراعلی پنجاب نے ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے افراد کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کردیا

وزیراعلیٰ ڈی ایچ کیو اسپتال پہنچ گئے، چلڈرن وارڈ میں زخمی بچوں کی عیادت کی، ان شاءاللہ لوگوں کوانصاف ملے گا کسی کیساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا: عثمان بزدار

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار میانوالی سے لاہور آنے کی بجائے ساہیوال پہنچ گئے ۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ساہیوال میں انسداد دہشتگردی فورس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں چار افراد کی ہلاکت کے واقعہ فوری نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کو ساہیوال پہنچنے کی ہدایت کی ۔ وزیر اعلیٰ جو میانوالی کے دورے پر تھے لاہور واپس آنے کی بجائے فوری ساہیوال پہنچ گئے جہاں انہوں نے پولیس کے اعلیٰ افسران سے وقوعہ کے حوالے سے بریفنگ لی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کا دورہ کیا ا ور ساہیوال واقعہ میں زخمی بچوں کی عیادت کی وزیراعلیٰ کو جان بحق افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر بھی بریفنگ دی گئی ہفتہ کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ٹیچنک اسپتال ساہیوال میں زخمی بچوں کی عیادت کی اس موقع پر آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی بھی موجود تھے وزیراعلیٰ کو ساہیوال واقعہ میںجان بحق افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بھی آگاہ کیا گیا عثمان بزدار نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعلی نے جاں بحق افراد کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ واضح رہے کہ ہفتے کے روز ساہیوال میں قادرآباد کے قریب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی )کی فائرنگ سی40سالہ خاتون اور 14سالہ بچی سمیت 4 افراد جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوگئے۔ جاں بحق افراد میں 2 خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چاروں جاں بحق افراد کو اغوا کار قرار دیا گیا ہے اور دعوی کیا گیا ہے کہ پولیس نے ایک آلٹو گاڑی اور موٹر سائیکل کو رکنے کا اشارہ کیا تو کار سوار افراد نے فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے چاروں افراد جاں بحق ہوگئے اور تین دہشتگرد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں سٹی ٹی ڈی نے گاڑی سے خود کش جیکٹ اور بارودی مواد برآمد کرلیا ہے یہ کارروائی فیصل آباد میں سولہ جنوری کو ہونے والے آپریشن میں فرار شاہد جبار اور عبدالرحمان کے سلسلے میں کی گئی ہے ہلاک ہونے والادہشتگرد داعش کمانڈر ذیشان ہے جس کی شناخت ہوگئی ہے ۔ تاہم حیران کن طور پر کوئی پولیس اہلکار زخمی نہیں ہوا۔پولیس نے کہا کہ اغوا کاروں کے قبضے سے تین بچے بازیاب کرالیے گئے جو گاڑی کی ڈگی میں موجود تھے۔ تاہم صورت حال اس وقت یکسر تبدیل ہوگئی جب لاشوں اور زخمی بچوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے گاڑی کے ٹائر پر پہلے فائر کئے اور پھر اس کے بعد گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جبکہ گاڑی سے کوئی مزاحمت بھی نہیں ہوئی جب پولیس نے گاڑی سے لاشیں برآمد کی تو اس دوران کوئی خود کش جیکٹ یا بارودی مواد بھی برآمد نہیں ہوا بعد ازاں پولیس نے تین زخمی بچوں کو قریبی پٹرول پمپ پر چھوڑ دیا جنہیں مقامی افراد نے طبی امداد کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا وہاں پر بچوںنے اپنا بیان قلمبند کرایا کہ جاں بحق افراد ان کے والد، والدہ، خالہ اور ڈرائیور ہیں۔ وہ لوگ لاہور شادی میں شرکت کیلئے جارہے تھے کہ راستے میں پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی اور ہمارے والدین کو گولیوں سے ما ر دیا ۔عینی شاہدین نے بتایا کہ پولیس نے نہ گاڑی روکی اور نہ تلاشی لی بلکہ سیدھی فائرنگ کردی۔ میڈیا پر خبریں چلنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور رپورٹ طلب کرلی جبکہ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزردار نے آئی جی پنجاب کو واقعہ کی تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ جبکہ واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکار گرفتار بھی کر لیے گئے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close