بین الاقوامی

نیوزی لینڈ حملے میں زخمی مسلمان شہری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

دوست احباب سےاپنے اور اپنی بیٹی کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گذشتہ روز دو مساجد پر سفید فام انتہا پسندوں نے حملہ کیا جس میں ایک آسٹریلوی شخص نے نہتے نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 49 مسلمان شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ حملے میں زخمی ہونے والے افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کی ویڈیو سامنے آئی۔ اپنے پیغام میں ایک زخمی شخص نے اپنے دوست احباب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میں بہت تھک گیا ہوں، مجھے آپ سب کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ میں ہر کسی کے پیغام کا جواب نہیں دے سکتا لہٰذا میں نے سوچا کہ میں ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کر دوں اور آپ کو بتا دوں کہ میں ٹھیک ہوں۔ میرے اور میری بیٹی کی صحت کے لیے دعا کیجئیے۔ میں تمام دعاؤں اور نیک خواہشات کے اظہار پر آپ سب کا بے حد مشکور ہوں۔ آپ سب نے ہماری حمایت کی اللہ آپ پر اپنا کرم کرے۔ وسیم کا ویڈیو پیغام آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:

اس ویڈیو پیغام پر صارفین نے وسیم نامی اس شخص اور اس کی پانچ سالہ بیٹی کے لیے خوب دعائیں کیں اور نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔ ویڈیو میں نظر آنے والے شخص وسیم دارغما کا تعلق اُردن سے ہے۔ گذشتہ روز مساجد پر حملے کے دوران وسیم کو چار گولیاں جبکہ اس کی پانچ سالہ بیٹی کو تین گولیاں لگیں جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال لایا گیا جہاں وسیم کی حالت پہلے سے بہتر ہے جبکہ ان کی پانچ سالہ بیٹی تاحال تشویشناک حالت میں ہے جس کی جلد صحتیابی کے لیے دعاؤں کی اپیل کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ پولیس نے گذشتہ روز مساجد پر حملہ کرنے والے مرکزی ملزم برینٹین ہیریسن ٹیرنٹ کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد ملزم کو آج صبح کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ جہاں عدالت نے اس کا 5 اپریل تک ریمانڈ منظور کر لیا۔ 28 سالہ آسٹریلوی شہری برینٹن ہیریسن نے عدالت میں پیشی کے دوران ریلیف یا ضمانت کی اپیل نہیں کی نہ ہی برینٹن کے وکیل نے ایسا کوئی مطالبہ عدالت کے سامنے رکھا۔ اس واقعہ کی تحقیقات میں نیوزی لینڈ پولیس کر رہی ہے جس میں آسٹریلوی پولیس بھی بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مائیک ولنگ کا کہنا ہے کہ خطے کا انسداد دہشتگردی یونٹ بھی اس سلسلے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔برینٹن نے عدالت میں کسی سے کوئی گفتگو نہیں کی اور خاموشی اختیار کئے رکھی لیکن دوران سماعت برینٹن انتہا پسند سفید فام تنظیم کا نشان بناتا رہا۔

یہی نہیں کمرہ عدالت میں برینٹن بالکل خاموش تو رہا لیکن ٹکٹکی باندھ کر صحافیوں کو دیکھتا رہا اور کھسیانی ہنستی ہنستا رہا۔ دنیا بھر کے لوگ اس سفاکانہ کارروائی پر برینٹن کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

 

Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close