Urdu Newsقومی

ساہیوال واقعہ، پولیس اہلکاروں نے پھر سے کہانی بدل دی

مقدمے میں قتل اور دہشتگردی کی دفعات شامل کی گئیں۔ لواحقین کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان

گذشتہ روز پیش آنے والے سانحہ ساہیوال کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ ساہیوال کا مقدمہ سی ٹی ڈی کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے خلیل کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمہ سی ٹی ڈی کے 16 نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا۔ ایف آئی نمبر 33/19 میں دہشتگردی اور قتل کی دفعات شامل کی گئیں۔ سانحہ کا مقدمہ درج ہونے کے بعد لواحقین نے احتجاج ختم کرنے، لاشیں اُٹھانے اور سڑکیں کھولنے کا اعلان بھی کر دیا۔ قبل ازیں لواحقین رات ایک بجے سے اپنے پیاروں کی لاشیں سڑکوں پر رکھے سراپا احتجاج تھے اور ساہیوال اور لاہور میں دھرنا دے رکھا تھا جس کی وجہ سے سڑکوں پر شدید ٹریفک جام اور ٹریفک کی روانی بُری طرح متاثر ہوئی جبکہ لاہور میں میٹروبس سروس بھی معطل رہی۔ تاہم اب سانحہ کا مقدمہ درج ہونے کے بعد مظاہرین نے دھرنا اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز ساہیوال میں قادرآباد کے قریب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی )کی فائرنگ سے 40 سالہ خاتون اور 14سالہ بچی سمیت 4 افراد جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں 2 خواتین اور دو مرد شامل تھے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت ذیشان ، خلیل ، نبیلہ اور اریبہ کے نام سے ہوئی۔ واقعہ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک وضاحتی پیغام جاری کیا گیا جس میں ترجمان نے ذیشان کو دہشتگرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں خلیل، اس کی اہلیہ اور اس کی بیٹی کی ہلاکت انتہائی بدقسمتی تھی۔ جے آئی ٹی واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جس اہلکار کی غلطی ثابت ہوئی اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جبکہ دوسری جانب ذیشان کی والدہ نے اپنے بیٹے پر دہشتگرد ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ سانحہ ساہیوال پر ایک جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں حساس اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ جے آئی ٹی تین روز میں واقعہ کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر مشکوک مقابلے میں ملوث سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو گذشتہ روز ہی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close