قومی

سانحہ ساہیوال کے متاثرہ بچوں کی والدین کے بغیر پہلی عیدی

اپنے آںکھوں کے سامنے والدین کو موت کے منہ میں جاتا دیکھنے والے معصوم بچوں کے چہرے پر ایک ہی سوال ہمارے والدین کا کہا قصور تھا ؟ عید کے موقع پر بچے مسلسل روتے رہے، مناظر ایسے کہ دیکھ کر کسی کی بھی آنکھوں میں آنسوجائیں

سانحہ ساہیوال کو گزرے کئی ماہ گزر گئے، متاثرہ بچوں کے چہروں پر بس ایک ہی سوال ہے کہ آخر ہمارے والدین کہاں ہیں؟ او انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔متاثرہ بچے ابھی بھی انصاف کے منتظر ہیں۔گذشتہ سال والدین کے ساتھ عید منانے والے بچوں کی اپنے والدین کے بغیر پہلی عید تھی۔یہ وہی بچے ہیں جنھوں نے اپنے سامنے والدین کو موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھا۔ جب میڈیا عید کے موقع پر سانحہ ساہیوال کے متاثرین کے گھر گئے،بچوں کی آنکھیں ابھی بھی نم تھیں جس نے دیکھنے والوں کو بھی آبدیدہ کر دیا۔بچوں کا کہنا ہے ہمیں والدین بہت یاد آ رہے ہیں۔عید کے موقع پر بچے مسلسل روتے رہے، مناظر ایسے کہ دیکھ کر کسی کی بھی آنکھوں میں آنسوجائیں گے اور حاکم وقت کے رویے پر افسوس بھی ہو گا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close