قومی

جہیز میں گاڑی مانگنے پر لڑکی کے والد نے موقع پر ہی رشتہ توڑ دیا

پاکستانی شہری نے اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی بہن کے گھر کر رکھا تھا

شادی کا نام سُنتے ہی شادی کی تقریبات اور اس میں دئے جانے والے تحائف ذہن میں آتے ہیں ، آج کل شادیوں پر جس قدر خرچ کیا جاتا ہے وہ قابل دید ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خرچ ”جہیز” پر ہوتا ہے جس کی وجہ لڑکے والوں کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات ہیں جنہیں پورا کرنے کے لیے کسی بھی لڑکی کا باپ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکے والوں کا سینہ چوڑا ہو جاتا ہے اور وہ منہ مانگی چیزیں ”جہیز” کی شکل میں لے لیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک سوشل میڈیا صارف نے اپنے پڑوس میں ہوئی شادی کی تقریب کا احوال بتاتےہوئے کہا کہ گذشتہ روز ہمارے پڑوس میں ایک لڑکی کی مہندی کی تقریب تھی، لڑکی کی ساس اُس کی پپپھو بھی تھی جنہوں نے اسٹیج پر جا کر لڑکی والوں سے جہیز میں گاڑی دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ سُن کر لڑکی کے والد نے ہمت دکھائی اور وہیں رشتہ ختم کر دیا۔ خاتون صارف کا کہنا تھا کہ ایسے گھٹیا اور لالچی لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہئیے

اس ٹویٹ کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے لڑکی کے والد کی ہمت اور عقلمندی کی داد دی اور اُس کی پھپھو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے کہا کہ پھپھو ہونے اور سگے بھائی کے ساتھ رشتہ کرنے کے باوجود لڑکی کی ساس نے اپنے بھائی تک کا خیال نہیں کیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ ساتھ ہی لڑکی کے اچھے نصیب کی دعا بھی کی۔

ایک ٹویٹر صارف نے تو کزن میرج کرنے والوں کو ہی آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اور کہا کہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ پاکستان میں لوگ کزنز سے شادی کیوں کرتے ہیں، لڑکی کے والد نے یہ رشتہ توڑ کر بہت اچھا کیا کیونکہ اگر اُن کی سگی بہن ایسا کرسکتی ہے تو پھر اس سے اچھے تو اجنبی لوگ ہیں۔کیونکہ لالچ کی کوئی حد نہیں ہوتی۔

ایک اور ٹویٹر صارف نے لڑکی کی پھپھو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پھپھو ہمیشہ پھپھو ہی رہتی ہے۔ جبکہ ٹویٹر صارف نے لڑکی کے والد کے اقدام کو بھی خوب سراہا۔

ایک صارف نے تو لڑکی کے والد کو حقیقی زندگی کا ہیرو قرار دے دیا۔

ایک اور صارف نے لڑکی کے والد کے اس فیصلے کو دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مہندی والے دن ہی بلیک میل ہو جاتے تو پھر ان کی بہن ساری زندگی انہیں اسی طرح بلیک میل کرتی۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے والدین کو اس طرح کے ناجائز مطالبات پر فوری طور پر اسٹیںڈ لینا چاہئیے اور بلیک میل ہونے سے انکار کر دینا چاہئیے کیونکہ اگر والدین ایک مرتبہ بلیک میل ہو جائیں تو پھر لڑکی کے سسرال والے پوری زندگی اسی طرح بلیک میل کرتے رہتے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close